نئی دہلی ،14؍اپریل (ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا) لوک سبھا انتخابات 2019 کے لیے بھارتیہ جنتا پارٹی نے اپنے امیدواروں کی ایک اور فہرست جاری کی ہے۔بی جے پی نے اپنی 20 ویں فہرست میں 6 لوک سبھا امیدواروں کے ناموں کا اعلان کیا ہے، وہیں مغربی بنگال میں اسمبلی ضمنی انتخابات کے لئے ایک امیدوار کے نام کا اعلان کیا ہے۔بھارتیہ جنتا پارٹی کی 20 ویں امیدواروں کی فہرست میں ہریانہ کے حصار سے برجندر سنگھ کو ٹکٹ دیا گیا ہے۔بتا دیں کہ برجیندر سنگھ مرکزی اسٹیل وزیر بیریندر سنگھ کے بیٹے ہیں، جنہوں نے آج ہی اپنے استعفی کا اعلان کیا ہے۔بی جے پی کی نئی لسٹ میں ہریانہ کے حصار سے برجندر سنگھ، روہتک سے اروند شرما کو ٹکٹ دیا گیا ہے۔وہیں مدھیہ پردیش میں کھجوراہوں سے بی جے پی نے بش دت شرما، رتلام سے جی ایس دامور، دھار سے چھتر سنگھ دربار کو ٹکٹ دیا گیا ہے۔راجستھان کے دوسہ سے جسکور مینا کو ٹکٹ دیا گیا ہے۔بی جے پی نے ہریانہ کے حصار سے مرکزی وزیر چودھری بیریندر سنگھ کے بیٹے برجیندر سنگھ کو امیدوار قرار دیا۔برجیدر سنگھ آئی اے ایس افسر ہیں۔47 سال کی عمر ہے۔ اس وقت حفیڈ کے ایم ڈی ہیں۔برجندر کے والد بیریندر سنگھ 2022 تک راجیہ سبھا رکن ہیں اور وہ الیکشن لڑنے سے انکار کر چکے ہیں۔بیریندر سنگھ پانچ بار 1977، 1982، 1994، 1996 اور 2005 میں اچانا سے رکن اسمبلی بن چکے ہیں اور تین بار ریاستی حکومت میں وزیر رہے ہیں۔وہ 1984 میں حصار لوک سبھا حلقہ سے اوم پرکاش چوٹالہ کو شکست دے کر ممبر پارلیمنٹ بنے تھے۔سن 2010 میں کانگریس سے راجیہ سبھا رکن بنے تھے، لیکن 2014 میں کانگریس سے 42 سال کا پرانا رشتہ توڑ کرراجیہ سبھا سے استعفی دے دیا تھا۔اس کے بعد بی جے پی میں شامل ہو گئے تھے۔جون 2016 میں بی جے پی نے انہیں دوبارہ راجیہ سبھا میں بھیج دیا تھا۔سال 1972 میں پیدا ہوئے 46 سالہ برجنیدر سنگھ دو بچوں کے باپ ہیں۔سال 1998 میں صرف 26 سال کی عمر میں آئی پی ایس بنے تھے۔ان کا ریٹائرمنٹ سال 2032 میں ہونا ہے، لیکن اب وہ رضاکارانہ طریقے سے ریٹائرمنٹ لے کر سیاسی اننگ کی شروعات کریں گے۔وہ چندی گڑھ، پنچکولا اور فرید آباد میں ڈی سی رہے ہیں۔ابھی وہ ہیفڈ کے منیجنگ ڈائریکٹر ہیں۔پردیش کی سیاست میں اہم رول ادا کرنے والے بانگر علاقے میں گزشتہ برسوں میں شمشیر سرجیوالا اور بیریندر سنگھ بڑے لیڈر ہوئے ہیں۔شمشیر نے اپنے بیٹے رندیپ سرجیوالا کوسیاسی میدان میں اتار دیا تھا۔جبکہ بیریندر کے بیٹے برجندر کا پڑھائی کی طرف رجحانات تھا۔ لہٰذا وہ سیاست میں نہیں آئے۔